پتور 9/جولائی (ایس او نیوز) کالج طلبہ کی جانب سے موبائل فونس کے بے جا اور غلط استعمال کے معاملات میں روزبروز اضافہ کو دیکھتے ہوئے اپن انگڈی پولیس نے ایک بڑا اقدام کیا ہے اور اپنے علاقے کے کالجوں چھاپہ مارکر طلبہ کے پاس موجود24موبائل فون ضبط کیے ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ پتور کے ایک پرائیویٹ کالج میں موبائل فون کے غلط استعمال سے پیش آنے والے واقعے نے پولیس کے کان کھڑے کردئے ہیں۔ اسی پس منظر میں پولیس سب انسپکٹر ننداکمار کی قیادت میں پولیس نے اپن انگڈی علاقے کے فرسٹ گریڈ اور پی یو کالجوں پر اچانک چھاپہ مارا اورتلاشی لینے پر طلبہ کے پاس سے بر آمد ہونے والے فون ضبط کرلیے۔ کیونکہ کالج احاطے میں موبائل فون ساتھ میں لانا ممنوع ہے۔
پولیس کو یہ بھی اطلاع ملی تھی کہ کچھ لڑکے گھر سے تو موبائل فون ساتھ میں لاتے ہیں مگر کالج میں داخل ہونے سے کے آس پاس واقع چھوٹی چھوٹی دکانوں پر رکھ دیتے ہیں۔پھر کلاسوں سے باہر نکلنے کے بعد اس کا بے جا استعمال شروع کردیتے ہیں۔ اس لئے پولیس نے کالج کے اطراف میں موجودایسی دکانوں پر چھاپہ مارا۔ اس طرح جملہ 24موبائل فون ضبط کرلیے۔
چھاپہ ماری کے بعدسب انسپکٹر نے طلبہ کو موبائل فون کے غلط استعمال اور اس پر فحش ویڈیو کلپ اور تصاویر دیکھنے اور ایسی چیزیں پھیلانے سے منع کرتے ہوئے آئندہ ہونے والے نقصانات اور برے اثرات کی تفصیل بتائی۔ اپنے اخلاق و کردار کی تعمیر کی طرف دھیان دینے کی نصیحت کی۔انہوں نے طلبہ کو گانجہ اور دوسری منشیات سے دور رہنے کی بھی ہدایت کی۔اور کہا کہ غلط کاریوں میں مبتلا ہوکر اپنے روشن مستقبل کو برباد نہ کریں۔
جن طلبہ کے موبائل فون ضبط کیے گئے تھے ان کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ پولیس اسٹیشن پہنچ کرفون واپس حاصل کریں۔ معلوم ہوا ہے کہ کچھ طلبہ نے اپنے والدین کے ساتھ پولیس اسٹیشن پہنچے اور اپنے اپنے فون واپس لے جانے میں کامیاب ہوگئے،لیکن کچھ طلبہ نے والدین کے خوف سے پولیس کو چکمہ دینے کی کوشش کی اوروہ اپنے جان پہچان والے افراد کو والدین کی حیثیت سے پولیس اسٹیشن لے آئے۔ چونکہ پولیس کو اس چالاکی کی بھی بھنک لگ گئی تھی، اس لئے اس نے یہ ہدایت بھی جاری کردی کہ طلبہ ساتھ آنے والے افراد متعلقہ طالب علم کے والدین ہونے کا دستاویزی ثبوت لیتے آئیں۔اس طرح چالاکی دکھانے والے طلبہ کا منصوبہ ناکام ہوگیااورانہیں اپنے حقیقی والدین کو ساتھ لانے کے لئے اپنے اپنے گھروں کی طرف واپس لوٹنا پڑا۔